Logo: Empowering the differently able persons
مواد پہ جائیں | English

یہ ترجمہ اسٹیپ نے ہینڈ یکیپ انٹرنیشنل کے تعاون سے کتابی صورت میں چھاپ تھا دانشکدہ اسے یونی کوڈ اُردو میں ویب پیج کی صورت میں ترتیب دے رہا ہے اور اس کو اسکرین ریڈر یوزر کے لیے مزید قابل رسائی بنانے پر کام کر رہا ہے۔

Special Telent Exchange Program in collaboration with Handicap International published Urdu translaiton of UN CRPD. Danishkadah presenting the same in Unicode Urdu format on web.

UN CRPD Urdu translation in PDF format

Update 3rd December 2012

یہ ترجمہ اب پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے

Download UN CRPD Urdu Translation in PDF format

اقوم متحدہ کا کنویشن برائے حقوق افراد باہم معذوری

ریاستی جماعتیں موجودہ کنویشن میں

  1. اقوام متحدہ کے چارٹر کے ان اصولوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو تسلیم کرتے ہیں کہ خاندان کے تمام افراد کو برابری کی بنیاد پر انسانی عظمت، اہمیت اور ناقابل تنسیخ حقوق حاصل ہیں، جن کی بنیاد ، دنیا میں آزادی، انصاف اور امن پر مبنی ہے:
  2. تسلیم کرتی ہیں کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عا لمی مسودے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ہر شخص کو تمام حقوق اور آزادیاں حاصل ہیں اور اس میں کسی قسم کی کو ئی تفریق نہیں ہے۔
  3. افراد باہم معذوری کے تمام انسانی حقوق، بنیادی آزادیاں اور ان کی ضروریات کی عالمگیریت، تقسیم ناپذیری، باہمی ربط اور باہمی انحصار کی توثیق کرتی ہیں اور بلا تفریق ان حقوق سے لطف اندوز ہونے کی ضمانت دیتی ہیں۔
  4. بین الاقومی معاہدہ برائے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق، بین الاقومی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق، ہر قسم کی نسلی تفریق کے خاتمے کا بین الاقوامی معاہدہ، خواتین کے خلاف ہر قسم کی تفریق کے خاتمے کا بین الاقومی معاہدہ، تشدد اور دیگر مظالم، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سلوک یا سزاوں کے خلاف معاہدہ، معاہدہ برائے حقوق اطفال اور تارکین وطن کارکنان اور ان کے افراد ِ خانہ کے حقوق کے تحفظ کا بین الاقومی معاہدے کی یاد دہانی کرتی ہیں۔
  5. تسلیم کرتی ہیں کہ معذوری ایک مروجہ خیال ہے اور اس کے نتیجے میں افراد باہم معذوری سے روابط کے درمیان رویے اور ماحولیاتی رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو ان کو معاشرے میں دیگر افراد کے ساتھ موئثر اور برابری کی بنیاد پر شرکت سے روک دیتی ہیں۔
  6. افراد باہم معذوری کے بارے میں عالمی پروگرام برائے عمل میں شامل رہنما اصولوں اور پالیسیوں کی اہمیت اور افراد باہم معذوری کے لئے یکساں مواقع کے بارے میں مروجہ قوانین کے تحت قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر پالیسیوں، منصوبہ جات اور پروگراموں کی تشکیل، ان پر اثر و رسوخ اور ان کے فروغ کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں تاکہ افراد باہم معذوری کے لیے مزید یکساں مواقع پیدا ہو سکیں۔
  7. پائیدار ترقی کی متعلقہ حکمتِ عملیوں کے اہم جز کے طور پر معذوری کے مسائل کو قومی دھارے میں لانے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
  8. یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ معذوری کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف امتیازی سلوک انسانی وقار کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
  9. افراد باہم معذوری کی مختلف اقسام کو تسلیم کرتی ہیں۔
  10. تمام افراد باہم معذوری بشمول زیادہ توجہ کے لائق افراد کے انسانی حقوق کے تحفظ اور تشریح کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہیں۔
  11. اس بارے میں تشویش ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف پالیسیوں اور یاد دہانیوں کے باوجود افراد باہم معذوری کو معاشرے کے دیگر افراد کے برابر حقوق حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ اور دنیا کے تمام حصوں میں افراد باہم معذوری کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔
  12. افراد باہم معذوری کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بین الاقومی تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
  13. افراد باہم معذوری کی طرف سے مجموعی طور پر اپنی کمیونٹی کی بہبود کے لیے ان کی موجودہ اور مخفی صلاحیتوں کی قدر کرتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ اگر افراد باہم معذوری کو ان کے مکمل انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں دی جائیں تو وہ دنیا سے غربت کے خاتمے سمیت معاشرے کی سماجی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  14. افراد باہم معذوری کی شخصی خود مختاری اور آزادی بشمول ان کی مرضی کے فیصلوں کی آزادی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
  15. قابل غور سمجھتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو فیصلہ سازی بالخصوص ان سے متعلقہ پالیسیوں اور پروگراموں کی فیصلہ سازی میں موئثر طور پرشامل ہونے کے مواقع دیئے جائیں۔
  16. اس بات پر متفکر ہیں کہ افراد باہم معذوری کو رنگ ، نسل، جنس ، زبان، مذہب، سیاسی، سماجی لحاظ سے مختلف اقسام کی شدید نوعیت کی تفریق اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  17. تسلیم کرتی ہیں کہ لڑکیوں اور خواتین باہم معذوری کے ساتھ دونوں جگہ یعنی گھر کے اندر اور باہر تشدد، نقصان پہنچانا، بد سلوکی، نظر انداز کرنا یا کم اہمیت دینا، بد تمیزی یا استحصال کا زیادہ خدشہ ہو سکتا ہے۔
  18. تسلیم کرتی ہیں کہ اطفال باہم معذوری کو دیگر بچوں کی طرح برابری کی بنیاد پر ہر قسم کی بنیادی آزادیاں حاصل ہونی چاہیئں جیسا کہ اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے حقوقِ اطفال میں ریاستی جماعتوں نے بتایا ہے۔
  19. تاکید کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کے انسانی حقوق اور شخصی آزادی کی ترقی کی تمام تر کوششوں میں صنفی تناظر کو شامل کیا جائے گا۔
  20. اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ زیادہ تر افراد باہم معذوری کو غربت کے حالات کا سامنا ہے اور اس حوالے سے اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری پر غربت کے منفی اثرات کے حوالے سے کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
  21. اس امر کے پیشِ نظر کہ امن و آتشی کی فضاء کی بنیاد اقوام ِ متحدہ کے منشور میں لکھے گئے قوانین اور اہداف کی مکمل تعظیم میں ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ دنیا میں قیام امن کیلئے بھر پور کوشش کی جائیں نیز افراد باہم معذوری کے لیے خاص طور پر مسلح تصادم یا غیر ملکی قبضے کی صورت میں امن و آشتی کی فضا کو ساز گار بنایا جائے۔
  22. تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں دلانے کے لئے صحت، تعلیم، اطلاعات اور مواصلات تک نیز ان کی طبعی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ماحول تک رسائی کی بہت اہمیت ہے۔
  23. ادارک رکھتی ہیں کہ ہر فرد کا دیگر افراد اور معاشرہ جس سے وہ تعلق رکھتا یا رکھتی ہو، پر کچھ فرائض ہیں جن کے مطابق اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقومی بل کو فروغ دینے اور اس کی پاسداری کرنے کی کوشش کرے۔
  24. قائل ہیں کہ خاندان معاشرے کا ایک فطری اور بنیادی جس ہے جس کا تحفظ معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ افراد باہم معذوری اور ان کے اہل خانہ کو ضروری تحفظ اور مدد فراہم کی جائے تاکہ افراد باہم معذوری اور ان کا خاندان معاشرے میں اپنا بھر پور اور مساویانہ کردار ادا کر سکیں۔
  25. قائل ہیں کہ ایک جامع اور مکمل بین الاقومی قرار داد افرد باہم معذوری کے حقوق اور عزت نفس کو فروغ دینے میں موئثر کردار ادا کرے گی۔ جس کے زریعے افراد باہم معذوری کی شدید معاشرتی محرومی کو دور کیا جا سکے گا اور ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ان کے معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی کردار کو مساویانہ طور پر فروغ دیا جا سکے گا۔

شق نمبر ا مقصد :

موجودہ کنونشن کا مقصد یہ ہے کہ تمام افاد باہم معذوری کے بنیادی انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کی انسانی عظمت کو فروغ دیا جائے۔

افراد باہم معذوری میں وہ افراد بھی شامل ہیں کہ جنہیں طویل المعیاد جسمانی، زہنی یا حسیاتی کمزوری کا سامنا ہے جن کی وجہ سے انہیں معاشرے میں اپنا موئثر کردار ادا کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہو۔

شق نمبر ۲ تعریف :

موجودہ کنویشن کے مقاصد کے لئے

"مواصلات" ، بشمول زبان، تحریری نمائش، بریل ، اشاروں کے ذریعے مواصلات، لارج پرنٹ، قابل دسترس ملٹی میڈیا بشمول تحریری مواد، آڈیو، پلین لینگویج، انسانی مواصلات کے مختلف ذرائع جن میں قابل دسترس انفارمیشن اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے طریقہ کار شامل ہیں۔

"زبان" میں بولی جانے والی اور اشاروں کی زبان او ر نا بولی جانے والی زبانوں کی دوسری اقسام شامل ہیں۔

"معذوری کی بنیاد پر تفریق" سے مراد کسی بھی معذوری کی بناء پر اس شخص سے امتیازی یا استحصالی سلوک یا پابندیاں روا رکھنا ہے جس سے دیگر افراد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی یا شہری حقوق، تفریحات اور اس کے تشخص سے انحراف کرنا شامل ہے۔

"معقول انتظامات" ، سے مراد ہے کہ افراد باہم معذوری کو اپنے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے لئے برابری کی بنیاد پر جب کبھی ضرورت ہو تو اس طرح کی ضروری تبدیلیاں لائی جائیں کہ جو نہ ہی ان کے لیے اضافی بوجھ بنیں اور نہ ہی انہیں زبردستی نافذ کیا جائے۔

"عالمی ڈیزائن" سےمراد افراد باہم معذوری کے لیے اشیاء، ماحول، پروگرام اور خدمات کا ایسا ڈیزائن ہے جو بناء کسی ردوبدل کےپوری دنیا میں سب کے لیے قابل استعمال ہو۔ عالمی ڈزائن میں معاون آلات جو کہ افراد باہم معذوری کےاستعمال میں آتے ہیں، شامل ہیں۔

شق نمبر ۳ عمومی اصول؛

اس کنویشن کے اصول مندرجہ ذیل ہوں گے۔

  1. مورثی عظمت، شخصی آزادی بشمول بذاتِ خود فیصلہ سازی کا اختیار اور انفرادی آزادی کا احترام
  2. عدم تفریق
  3. معاشرے میں موئثر اور بھر پور شرکت اور شمولیت
  4. بحثیت انسان افراد باہم معذوری کا احترام اوران افراد کی قبولیت
  5. یکساں مواقع
  6. رسائی
  7. ۔ مردوں اورعورتوں میں برابری
  8. اطفال باہم معذوری کی صلاحیتوں کا احترام، ان کے حقوق اور ان کیلئے برابری کےمواقع کی فراہمی

شق نمبر ۴ عمومی ذمہ داریاں :

  1. تمام ریاستی جماعتیں یہ عہد کرتی ہیںاور یقین دلاتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو بلا تفریق تمام انسانی اور بنیادی حقوق حاصل ہوں گے اور ان کے ساتھ معذوری کی بنیاد پر کوئی تفریق روا نہیں رکھی جائے گی۔ اس کے لئے تمام ریاستی جماعتیں یہ عہد کرتی ہیں کہ؛
    1. ۔ موجودہ کنونشن میں تسلیم کئے گئے تمام حقوق پر عملدرآمد کیلئے مناسب قانونی، انتظامی اور دیگر اقدامات کئے جائیں گے۔
    2. ۔ افراد باہم معذوری کے خلاف تفریق کو ختم کئے جانے کے لئے تمام اقدامات بشمول قانون سازی کی جائے گی کہ جس سے ایسے موجودہ قوانین، ضابطے یا روایات میں ردوبدل یا تنسیخ کیا جاسکے کہ جو تفریق کا باعث ہیں۔
    3. ۔ افراد باہم معذوری کے انسانی حقوق کو تمام پالیسیوںاور پروگراموں میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
    4. ۔ تمام ایسے قوانین کو ختم کر دیا جائے گا جو موجودہ کنونشن کے ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہوں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے موجودہ کنونشن سے ہم آہنگ رہیں گے۔
    5. ۔ معذوری کی بنیاد پر کسی شخص، ادارے یا نجی ادارے کی طرف سے روا رکھی گئی تفریق کو ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔
    6. ۔ موجودہ کنونشن کی شق ۲ کےتحت عالمی ڈیزائن کے مطابق تیار اشیاء، خدمات، سازوسامان اور سہولتوں کی تحقیق و ترقی اور فروغ کو بہتر بنایا جائے گا کہ جو انتہائی ضروری مطابقت اور کم از کم لاگت پر مبنی ہو تاکہ افراد باہم معذوری کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ ان اشیاء کی دستیابی اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا نیز عالمی ڈیزائن کے فروغ کے لیے معیار اور رہنما اصول وضع کئے جائیں گے۔
    7. ۔ تحقیق اور ترقی کو فروغ دیا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی بشمول معلومات اور رابطے کی ٹیکنالوجی، ذرائع نقل و حمل، معاون ٹیکنالوجی اور آلات کہ جو افراد باہم معذوری کے لیے مناسب ہوں، کی دستیابی اور اس کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور افراد باہم معذوری کو ترجیحاً یہ ٹیکنالوجی قابل دسترس قیمت میں دستیاب ہوگی۔
    8. ۔ افراد باہم معذوری کو نقل وحمل کی سہولیات ، معاون ٹیکنالوجی اور آلات بشمول نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ دیگر معاون ذرائع، امدادی خدمات اور سہولیات کی معلومات کو قابل رسائی بنایا جائے گا۔
    9. موجودہ کنونشن میں تسلیم کئے گئے حقوق کے حوالے سے افراد باہم معذوری کے ساتھ کام کرنے والے پیشہ ور افراد اور کارکنان کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ بہتر طور پر معاونت اور خدمات مہیا کریں اور افراد باہم معذوری کے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
  2. اقتصادی، سماجی، ثقافتی حقوق کے حوالے سے ہر رکن ملک یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے افراد باہم معذوری کی فلاح وبہبود کیلئے بھر پور اقدامات کرے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کے تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا اور قانون سازی کے دوران کنونشن میں طے کئے گئے بین الاقومی ضابطوں سے صرف نظر نہیں کیا جائے گا جن کا اطلاق فوری ہوگا۔
  3. موجودہ کنونش کے اطلاق کے لئے کی جانے والی قانون سازی، پالیسی سازی اور دیگر فیصلہ سازی کے عمل میں ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری اور اطفال باہم معذوری کی نمائندہ جماعتوں کی سرگرم شمولیت کو یقینی بنائیں گی۔
  4. بین الاقومی قوانین یا ریاستی جماعتوں کے قوانین میں اگر کوئی ایسی شق ہے جو کہ افراد باہم معذوری کے لئے موجودہ کنونشن کی شقوں سے بہتر ہے تو اس شق کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ کنونشن سے ایسی کوئی شق متاثر نہیں ہوتی جو افراد باہم معذوری کے حقوق محفوظ رکھنے میں سازگار ہے اور تمام ریاستیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری سے متعلق طے کئے گئے ضوابط کے متصادم کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی۔
  5. موجودہ کنونشن کی تمام شقیں تمام ریاستوں پر بغیر کسی حدود اور استشنی کے لاگو ہوں گی۔
  6. شق نمبر ۵ برابری اور عدم تفریق :

    1. تمام ریاستی جماعتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ہر شخص کو قانون کے مطابق برابر کے حقوق حاصل ہیں اور بلا تفریق قانونی تحفظ اور فوائد کا مستحق ہے۔
    2. ۲۔ ریاستی جماعتیں معذوری کی بنیاد پر تفریق کی ممانعت کریں گی اور افراد باہم معذوری کو اس بات کی ضمانت دیں گی کہ انہیں کسی بھی تفریق کے خلاف برابر اور موئثر قانونی تحفظ ملے گا۔
    3. ریاستی جماعتیں برابری کو فروغ دینے اور تفریق کے خاتمے کے لئے مناسب اقدامات کریں گی تاکہ معاشرے میں ان کی مناسب شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    4. افراد باہم معذوری کے معاشرے میں سرگرم کردار ادا کرنے کے لئے کئے گئے اضافی اقدامات کو اس کنونشن کی رو سے تفریق نہیں سمجھا جائے گا۔

    شق نمبر ۶ خواتین باہم معذوری :

    1. ۱۔ ریاستی جماعتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ خواتین باہم معذوری اور لڑکیوں کو متفرق تفریق کا سامنا ہے اس لئے ان کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو برابری کی بنیاد پر یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔
    2. ریاستی جماعتیں خواتین کی ترقی اور انہیں با اختیار بنانے کے لئے مناسب ٹھوس اقدامات کریں گی اور موجودہ کنونشن میں طے کئے گئے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی ضمانت دیں گے۔

    شق نمبر ۷ اطفال باہم معذوری :

    1. ریاستی جماعتیں اطفال باہم معذوری کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو یقینی بنانے کے لئے موئثر اقدامات کریں گی اور انہیں معاشرے میں دیگر بچوں جیسے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے سرگرم رہیں گی۔
    2. اطفال باہم معذوری سے متعلق تمام اقدامات کا اولین محور اطفال باہم معذوری کی فلاح و بہبود ہوگا۔
    3. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ اطفال باہم معذوری کو ان سے متعلقہ امور میں اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہو، عمر اور بلوغت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کے خیالات کا احترام کیا جائے اور انہیں دیگر بچوں کے ساتھ برابری کے مواقع حاصل رہیں۔

    شق نمبر ۸ آگاہی بڑھانا :

    1. تمام ریاستی جماعتیں موئثر اور مناسب اقدامات کا فوری اطلاق کرنے کا عہد کرتی ہیں۔
      1. ۔ پورے معاشرےمیں خاندان کی سطح پر افراد باہم معذوری کے بنیادی اور برابر کے حقوق کے لئے آگاہی بڑھانے کے اقدامات کرنا۔
      2. ۔ افراد باہم معذوری کے ساتھ ان کی عمر اورجنس کی بنیاد پر کئے جانے والے روایتی برتاؤ، تعصبات اور ضرر رساں رواج کے خاتمے کے لئے کوشش کرنا۔
      3. ۔ افراد باہم معذوری کی صلاحیتوں اور ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے شعور پیدا کرنا۔
    2. اس سلسلے میں اقدامات درج ذیل ہیں۔
      1. موئثر عوامی رابط مہم شروع کرنے کے لئے منصوبہ بندی
        1. افراد باہم معذوری کے حقوق کا تحفظ
        2. معاشرے میں موئثر شرکت کے لئے افراد باہم معذوری کے حوالے سے مثبت رویہ اور زیادہ سماجی آگاہی۔
        3. افراد باہم معذوری کی مہارتوں اور صلاحیتوں کا اعتراف اور کام کی جگہوں اور لیبر مارکیٹ میں ان کی اہمیت کو فروغ دینا۔
      2. ۔ تمام تعلیمی درجات اور نظام میں خصوصاً بچوں میں ابتدائی عمر سے ہی افراد باہم معذوری کے حقوق کے حوالے سے عزت دار رویہ رکھنے کے لئے کام کرنا۔
      3. ۔ ذرائع ابلاغ کے تمام شعبوں کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ اس کنونشن کی رو سے افراد باہم معذوری کے کردار کو فروغ دیں۔
      4. ۔ افراد باہم معذوری اور ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لئے تربیتی پروگرام کو فروغ دینا۔

    شق نمبر ۹ رسائی :

    1. زندگی کے تمام شعبوں میں افراد باہم معذوری کی آزادانہ اور بھرپور شرکت کے مواقع کی فراہمی کے لئے ریاستی جماعتیں مناسب اقدامات کریں گی اور ریاستی جماعتوں کی جانب سے افراد باہم معذوری کو نقل و حمل کے لئے برابری کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور اطلاعات اور مواصلات کے شعبوں میں افراد باہم معذوری کی شرکت اور دیہی اور شہری علاقوں میں سہولت کی مناسب فراہمی کے لئے اقدامات کریں گی۔
      1. عمارتوں ، سڑکوں، ذرائع نقل و حمل اور دوسری اندرون خانہ اور بیرونی سہولتوں کی تعمیر جس میں اسکول، گھر، طبی سہولیات اور اداروں میں سہولتیں شامل ہیں۔
      2. معلومات، مواصلات اور دیگر خدمات بشمول الیکٹرونک خدمات اور ہنگامی یا فوری خدمات تک رسائی
    2. ریاستی جماعتیں مندرجہ ذیل مناسب اقدامات بھی کریں گی
      1. ایسے معیار اور اصولوں کی تعمیر، اطلاق اور نگرانی کہ جن سے عوامی سہولیات اور خدمات تک رسائی لے لئے رہنمائی کی فراہمی ممکن ہو
      2. ۔ غیر سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کردہ خدمات تک افراد باہم معذوری کی رسائی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات
      3. ۔ افراد باہم معذوری کو رسائی کے حوالے سے پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے کے لئے تمام ذمہ دار افراد کو تربیت فراہم کرنا
      4. ۔ عمارتوں اور دیگر عوامی سہولیات میں بریل یا آسانی سے پڑھنے یا سمجھ آنے والے دیگر طریقوں کی فراہمی
      5. ۔ عوامی سہولیات اور عمارتوں میں معاونت اور سہولیات بشمول رہنمائی، پڑھنے والی اور پیشہ ورانہ اشاراتی سہولیات کی فراہمی
      6. ۔ معلومات تک رسائی کے لئے افراد باہم معذوری کو مناسب قسم کی معاونت اور امداد کی فراہمی
      7. ۔ نئی معلومات اور نئی ٹیکنالوجی بشمول انٹرنیٹ تک رسائی کو فروغ دینا
      8. کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کے لئے ایسی رابطے کی ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی کے لئے سسٹم بنانا اور اسے ترقی دینا جو کہ افراد باہم معذوری تک معلومات کی رسائی کو آسان بنا سکے

    شق نمبر۱۰ زندگی گزارنے کا حق :

    ریاستی جماعتیں اس بات کا اعادہ کرتی ہیں کہ ہر شخص کو زندگی گزارنے کا بنیادی اور مورثی حق حاصل ہے ۔ اور بلخصوص افراد باہم معذوری کو اس بنیادی انسانی حق کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات کئے جائیں گے

    شق نمبر ۱۱ خطرناک حالات اور ہنگامی صورتحال

    ریاستی جماعتیں انسانی ہمدردی کے بین الاقومی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین سمیت، عالمی قوانین کے تحت جنگوں، انسانی خطرات اورقدرتی آفات سمیت ہنگامی صورتحال میں افراد باہم معذوری کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کریں گی۔

    شق نمبر ۱۲ قانون کی نظر میں برابری :

    1. ریاستی جماعتیں یہ عہد کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو ہر جگہ قانون کا پابند تصور کیا جائے گا۔
    2. ۲۔ زندگی کے تمام شعبوں میں افراد باہم معذوری اور دیگر افراد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک روا رکھا جائے گا۔
    3. ریاستی جماعتیں ایسے مناسب اقدامات کریں گی جن کی مدد سے افرد باہم معذوری کو قانون تک رسائی کے عمل میں برابر کے مواقع مل سکیں گے۔
    4. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ انسانی حقوق کے بین الاقومی قانون کے تحت افراد باہم معذوری کو تمام قانونی تحفظات حاصل ہوں اور کسی بھی قانونی چارہ جوئی کی صورت میں کنونشن کے تمام ضابطوں کو مد نظر رکھا جائے۔
    5. اس شق کے مطابق ریاستی جماعتیں اس بات کی ذمہ دار ہوں گی کہ افراد باہم معذوری کو جائیداد کی خریدوفروخت کے لئے برابری کے حقوق کی فراہمی کے لئے موئثر اقدامات کئے جائیں گے اور ان کے جانی اورمالی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہیں مالیاتی امور بنکوں سے قرضے اور جائیداد سے متعلقہ دیگر حقوق حاصل ہوں گے۔

    شق نمبر ۱۳ انصاف تک رسائی :

    1. تمام ریاستی جماعتیں دیگر افراد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر افراد باہم معذوری کو ان کی عمر ، بلواسطہ یا بلا واسطہ شرکت، قانونی معاملات میں گواہی بشمول تحقیقاتی اور دیگر ابتدائی مراحل میں انصاف تک رسائی کو موئثر اور یقینی بنائیں گی۔
    2. افراد باہم معذوری کی انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی جماعتیں پولیس اور جیل حکام کے ساتھ ساتھ ان افراد کو بھی جو اس حوالے سے کام کر رہے ہیں انہیں مناسب تربیت فراہم کریں گی۔

    شق نمبر ۱۴ افراد کی آزادی اور سلامتی :

    1. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو دیگر افراد کے ساتھ برابری کے حقوق حاصل ہوں گے، جس میں
      1. شخصی آزادی اور افراد کا تحفظ
      2. غیر قانونی یا زبردستی اپنے بنیادی حق سے محرومی اور کسی بھی صورت میں فرد کی معذوری قانونی حق کے حصول میں رکاوٹ
    2. ریاستی جماعتیں یہ بات یقینی بنائیں گی کہ اگر کسی بھی عمل کے ذریعے افراد باہم معذوری کو ان کی آزادی سے محروم کیا گیا ہو تو مناسب اقدامات کے ذریعے اس کا تدارک کیا جائے گا۔ ور ا س بات کی ضمانت دی جائے گی کہ کہیں بھی بنیادی انسانی حقوق متاثر نہ ہو سکیں۔ ان کے ساتھ اس کنونشن کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔

    شق نمبر ۱۵ تشدد اور دیگر مظالم، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سلوک یا ظالمانہ سزاؤں سے آزادی :

    1. کسی کو ظالمانہ، غیر انسانی، تضحیک آمیز سزا کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ خاص طور پر کسی کو بھی اس کی مکمل مرضی کے بغیر طبی یا سائینسی تجربے سے نہیں گزارا جائے گا۔
    2. ریاستی جماعتیں تمام ایسے موئثر قانونی، انتظامی، عدالتی یا دیگر اقدامات کریں گی کہ جن سے افراد باہم معذوری کو دیگر افراد کی طرح برابری کی بنیاد پر تشدد، ظلم، غیر انسانی یا تضحیک آمیز سلوک یا سزاؤں سے بچایا جاسکے۔

    شق نمبر ۱۶ تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے آزادی :

    1. ریاستی جماعتیں، افراد باہم معذوری کو گھر کے اندر اور باہر ہر قسم کے استحصال ، تشدد اور بد سلوکی سے محفوظ رکھنے کے لئے مناسب قانونی، انتظامی، سماجی اور تعلیمی اور دیگر اقدامات کریں گی۔
    2. مناسب اقدامات کے تحت ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہمی معذوری کو ہر قسم کے استحصال، تشدد اور بدسلوکی سے بچایا جائے اور اس کے لئے افراد باہم معذوری، ان کے خاندان اور خدمات مہیا کرنے والے افراد کو عمر اور صنف کی مناسبت سے معاون سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ او رساتھ ساتھ معلومات تک ان کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا کہ بدسلوکی، تشدد اور استحصال سے اپنے آپ کو کیسے بچانا ہے۔ اور اس کے خلاف کہاں رپورٹ کرنی ہے۔ ریاستی جماعتیں اس بات کو بھی یقینی بنائیں گی کہ تحفظ کے اقدامات کو عمر، صنف اور معذوری کے لحاظ سے حساس بنایا جائے۔
    3. افراد باہم معذوری کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے بچانے کے لئے ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کےلئے بنائے جانے والے تمام پروگرام اور سہولیات کی آزاد ذرائع سے نگرانی کرائی جائے گی۔
    4. استحصال، تشدد یا بد سلوکی کے شکار افراد باہم معذوری کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تندرستی اور معاشرے میں ان کی بحالی اور تحفظ کے لئے ریاستی جماعتیں ہر ممکن مناسب اقدامات کریں گی۔ افراد باہم معذوری کی بحالی میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا کہ جہاں صحت، بہبود، عزت نفس، وقار اور شخصی آزادی کو محفوظ بنانے کے لئے عمر اور صنفی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اقدامات کئے جائیں گے۔
    5. ریاستی جماعتیں موئثر قانون سازی کریں گی اور بطور خاص خواتیں اور بچوں کے لئے ایسی قانون سازی اور پالیسی بنائیں گی کہ جن کے ذریعے افراد باہم معذوری کے خلاف کئے جانے والے استحصال، تشدد اور بد سلوکی کو نہ صرف پہچانا جا سکے بلکہ اس کے خلاف تحقیقات بھی کی جا سکیں اور جہاں مناسب ہو عدالتی کاروائی بھی کی جاسکے۔

    شق نمبر ۱۷ شخصی عظمت کا تحفظ :

    افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر اس بات کا حق حاصل ہے کہ ان کی طبعی اور ذہنی عظمت کا تحفظ اور احترام کیا جائے۔

    شق نمبر ۱۸ نقل و حرکت اور شہریت حاصل کرنے کی آزادی :

    1. ۱۔ ریاستی جماعتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر نقل و حرکت کی آزادی ہے اور وہ اپنی مرضی سے شہریت اوررہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
      1. افراد باہم معذوری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کریں یا اپنی شہریت کو تبدیل کریں اور انہیں زبردستی یا معذوری کی بنیاد پر اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
      2. افراد باہم معذوری کو معذوری کی بنیاد پر شہریتی اور شناختی کاغذات اپنے ساتھ رکھنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، انہیں اپنے کاغذات اپنے ساتھ رکھنے اور استعمال کرنے کی آزادی ہوگی۔ یا ان کاغذات کو امیگریشن یا دیگر متعلقہ عمل میں استعمال کرنےکا اختیار ہوگا تاکہ وہ آزادی سے نقل و حرکت کر سکیں۔
      3. افراد باہم معذوری کو اپنا ملک سمیت کوئی بھی ملک چھوڑنے کی آزادی ہو گی۔
      4. معذوری کی بنیاد پر انہیں اپنے ہی ملک میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے سکتا۔
    2. اطفال باہم معذوری کا اندارج پیدائش کے فوراً بعد کیا جائے گا ان کا نام رکھا جائے گا، انہیں شہریت دی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کے والدین ان کا خاص خیال رکھیں۔

    شق نمبر ۱۹ خودمختاری اور معاشرے میں شمولیت :

    اس کنونشن میں تمام ریاستی جماعتیں معاشرے میں رہنے کے لئے افراد باہم معذوری کے برابری کے حقوق کو تسلیم کرتی ہیں اور وہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کریں گی تاکہ افراد باہم معذوری بھی انسانی برادری میں بھر پور شرکت کے ذریعے اپنی زندگی سے بھر پور لطف اندوز ہو سکیں۔ نیز درج ذیل کو یقینی بناتی ہیں۔

    1. افراد باہم معذوری دیگر افراد کی طرح برابری کی بنیاد پر اپنی رہائش کے انتخاب، کہاں اور کس کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہو گا اور انہیں کسی مخصوص جگہ رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
    2. افراد باہم معذوری کو اپنے گھر میں رہائشی مقامات پر یا کسی بھی دوسرے بہبودی مرکز میں اپنی مرضی کے مطابق رہائش تک رسائی حاصل ہو گی۔ ساتھ ساتھ انہیں دیگر معاون خدمات بشمول رہائش کے لئے ذاتی معاونت تاکہ نہ صرف رہائش میں آسانی ہو بلکہ معاشرے میں بھی شامل ہونے کا موقع ملے اور معاشرے سے الگ تھلگ نہ کیا جا سکے۔
    3. افرادباہم معذوری کو عام افراد کے برابر ،کمیونیٹی کی سہولیات حاصل ہوں گی۔

    شق نمبر ۲۰ شخصی نقل و حرکت :

    ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لئے موئثر اقدامات کریں گی، ان اقدامات میں

    1. افراد باہم معذوری کی مرضی کے مطابق نقل و حرکت کے لئے مناسب قیمت پر سہولیات کی فراہمی۔
    2. افراد باہم معذوری کی ذرائع نقل و حرکت تک رسائی اور ان کے لئے معاون ٹیکنالوجی کی دستیابی کو مناسب قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
    3. نقل و حرکت کے لحاظ سے افراد باہم معذوری اور ان کے ساتھ ماہر اسٹاف کارکنان کو تربیت دی جائے گی۔
    4. افراد باہم معذوری کے لئے مختلف سازو سامان اور معاونتی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے غیر حکومتی اداروں کو خصوصی رعایت دی جائے گی تاکہ افراد باہم معذوری کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔

    شق نمبر ۲۱ رائے اور تجاویز کے اظہار کی آزادی اور اطلاعات تک رسائی :

    ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کی رائے اور تجاویز کے اظہار کے حق بشمول معلومات تک رسائی اور کسی بھی ذریعے سے معلومات حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے مناسب اقدامات کریں گی اور موجودہ کنونشن کی شق نمبر ۲ کے مطابق انہیں برابری کی بنیاد پر اطلاعات تک رسائی حاصل ہوگی۔

    1. عام افراد کو فراہم کی جانے والی اطلاعات برابری کی بنیاد پر افراد باہم معذوری کو بھی دی جائیں گی اور ان تک اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں کوئی اضافی قیمت عائد نہیں کی جائے گی۔
    2. اشاروں کی زبان سمیت تمام مربوط اور ممکنہ مواصلاتی سہولیات کو موئثر بنایا جائے گا اور افراد باہم معذوری کی ان تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    3. عوام کو خدمات فراہم کرنے والے بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے اطلاعات فراہم کرنے والے غیر حکومتی اداروں کو پابند کیا جائےگا کہ وہ اس طرح معلومات یا خدمات فراہم کریں کہ افراد باہم معذوری کی بھی ان تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔
    4. ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات فراہم کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ ان کی خدمات افراد باہم معذوری کے لئے بھی قابل رسائی ہوں۔
    5. اشاروں کی زبان کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کو فروغ دیا جائے گا۔

    شق نمبر ۲۲ نجی زندگی کا احترام :

    1. کسی بھی فرد کو فرد باہم معذوری، چاہے وہ کہیں بھی رہے یا اس کی رہائش کا کوئی بھی انتظام ہو، اس کی نجی زندگی، خاندان، گھر یا ذرائع مواصلات میں دخل اندازی یا مداخلت یا غیر قانونی طور پر اس کی عزت یا شہرت کو نقصان پہنچانےکا حق حاصل نہیں ہے۔ افراد باہم معذوری کو یہ قانونی تحفظ اور حق حاصل ہو گا کہ وہ اس طرح کی کسی بھی مداخلت سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔
    2. ریاستی جماعتیں دیگر افراد کی طرح افراد باہم معذوری کی نجی زندگی، صحت اور بحالی کی معلومات کا مکمل تحفظ کریں گی۔

    شق نمبر ۲۳ گھر اور خاندان کا احترام :

    1. ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کی ذاتی زندگی، شادی بیاہ، خاندان اور رشتوں کے احترام کے خلاف کسی بھی تفریق کو ختم کرنے کے لئے کوئثر اقدامات کریں گی انہیں یہ حقوق برابری کی بنیاد پر حاصل ہوں گے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ؛
      1. شادی کی عمر ہو جانے کے بعد افراد باہم معذوری کو شادی کرنے اور اپنے/اپنی ساتھی کی مکمل مرضی سے خاندان بنانے کی مکمل آزادی کا حق حاصل ہو۔
      2. آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ بچوں کی تعداد اور ان کی پیدائش میں وقفہ کرنے کے لحاظ سے فیصلہ کرنا، عمر کی مطابقت سے معلومات کا حصول اور تولیدی اور خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیمات تک رسائی افراد باہم معذوری کا حق ہے اور ضروری ہے کہ انہیں ان حقوق پر عمل کرنے کے لئے مکمل مواقع فراہم کئے جائیں۔
      3. اطفال باہم معذوری کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہیں کی جائے گی اور انہیں دیگر اطفال کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔
    2. بچوں کی سر پرستی، متولی اور سپردگی کے حوالے سے ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو دیگر افراد کے برابر حق دیا جائے۔ ہر قسم کے حالات میں بچے کے بہتر مفاد کو مقدم رکھا جائےگا۔ ریاستی جماعتیں بچوں کی نشوونما کے حوالے سے افراد باہم معذوری کو مناسب معاونت فراہم کریں گی۔
    3. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ اطفال باہم معذوری کو خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے کا برابری کے ساتھ موقع مل سکے۔ ان حقوق کو مدِ نظر رکھنے کے لئے اور اطفال اہم معذوری کو نظر انداز ہونے، چھپے رہنے، غائب ہو جانے اور الگ تھلگ رہنے سے بچانے لے لئے ریاستی جماعتیں یہ عہد کرتی ہیں کہ اطفال باہم معذوری اور ان کے خاندان والوں کو جامع معلومات اور خدمات مہیا کی جائیں گی۔
    4. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ کسی بچے کو ما ں یا باپ کی مرضی کے بغیر علیحدہ نہیں کیا جائے گا تا وقت یہ کہ کوئی قانونی پیچیدگی حائل نہ ہو یا علیحدگی بچے کے بہتر مفاد میں ہو۔ کسی بھی صورت میں معذوری کی بنیاد پر کسی بچے کو والدین سے جدا نہیں کیا جائے گا، چاہے بچہ یا اس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی معذورہوں۔
    5. اگر اطفال باہم معذوری کا خاندان اس کی بہتر نگہداشت کے قابل نہ ہو تو ریاستی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ اس بچے کی نگہداشت کریں۔

    شق نمبر ۲۴ تعلیم :

    1. ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کے تعلیمی حق کو تسلیم کرتی ہیں اور بلا تفریق اس حق کو برابری کی بنیاد پر فراہم کریں گی اور اس مقصد کے لئے ریاستی جماعتیں انہیں زندگی بھر کے لئے تعلیمی نظام مہیا کریں گی۔
      1. انسانی اقدار، وقار اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
      2. افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر اپنی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بڑھانے کا بھر پور موقع فراہم کیا جائے گا۔
      3. افراد باہم معذوری کی ایک آزاد معاشرے میں موئثر شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
    2. تعلیمی حق تسلیم کرتے ہوئے ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ
      1. افراد باہم معذوری کو ان کی معذوری کی بناء پر عمومی تعلیمی نظام سے الگ نہیں کیا جائے گا اور معذوری کی بنیاد پر اطفال باہم معذوری کو مفت پرائمری اور ثانوی تعلیمی نظام سے الگ نہیں کیا جائے گا۔
      2. افراد باہم معذوری کو اپنی کمیونٹی میں رہتے ہوئے مفت اور معیاری سیکنڈری اور پرائمری تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
      3. اطفال باہم معذوری کو ان کی ضروریات کے مطابق بھر پور سہولتیں دی جائیں گی۔
      4. افراد باہم معذوری کو عالمی تعلیمی نظام کے اندر رہتے ہوئے تمام مطلوبہ مدد فراہم کی جائے گی۔
      5. افراد باہم معذوری کو معاون اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تعلیمی اور سماجی ترقی کا ماحول فراہم کیا جائے گا۔
    3. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو زندگی گزارنے اور سماجی ترقی کی صلاحیتں سیکھنے کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ تعلیم کے شعبے میں اور معاشرے کے ایک فعال رکن کے طور پر زندگی گزار سکیں۔ اس سلسلے میں ریاستی جماعتیں مناسب اقدامات کریں گی جو مندرجہ زیل ہیں۔
      1. بریل ، متبادل ذرائع اور تمام ممکنہ مواصلاتی رابطوں کے ذریعے افراد باہم معذوری کو سہولیات دی جائیں گی۔
      2. قوت سماعت سے محروم یا کمی والے افراد کی کمیونٹی میں اشاراتی زبان کو سیکھنے کو فروغ دیا جائے گا۔
      3. اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ قوت سماعت ، گویائی اور بینائی سے محروم یا کمی والے افراد کو ایسی زبان میں تعلیم دی جائے گی جو ان کے لئے مناسب ہو اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا کہ جو ان کی تعلیمی اور سماجی ترقی میں مدد فراہم کرے گا۔
    4. یہ حق پہنچانے کے لئے ریاستی جماعتیں مناسب اقدامات کریں گی اور افراد بالخصوص ایسے افراد باہم معذوری کہ جو اشاراتی زبان یا بریل جانتے ہوں، کو تربیت کنندہ کے طور پر ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ تاکہ تعلیمی نظام کے ہر مرحلے میں کام کرنے والے افراد کی تربیت ہو سکے۔ اس طرح کی تربیت میں معذوری کے حوالے سے آگاہی اور مواصلات کے دیگر ذرائع اور تعلیمی ضروریات اور معذوری کے حوالے سے امدادی سمان کی فراہمی شامل ہے۔
    5. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو بلا تفریق اور برابر کی بنیاد پر پیشہ ورانہ تعلیم حاصل ہو اور تعلیم بالغاں میں ان کی موئثر شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ساتھ ساتھ افراد باہم معذوری کو مناسب رہائش بھی فراہم کی جائے گی۔

    شق نمبر ۲۵ صحت :

    ریاستی جماعتیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو بلا تفریق اور برابری کی بنیاد پر بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ ایس سہولیات کا انتظام کیا جائے گا کہ جو صنفی لحاظ سے حساس ہوں گی بشمول صحت سے متعلقہ بحالی کے اقدامات۔ خصوصی طور پر دیکھیں تو؛

    1. افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر حفظان صحت بشمول جنسی صحت، تولیدی صحت اور آبادی کے لحاظ سے عوامی صحت کے پروگراموں میں خصوصی طور پر شامل کیا جائے گا۔
    2. افراد باہم معذوری کی خصوصی ضروریات کے مطابق انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ایسی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی کہ جو معذوری کو مزید بڑھنے سے روکیں گی۔
    3. افراد کو ان کی کمیونٹی میں بشمول دیہی علاقوں میں طبی سہولیات بہت قریب فراہم کی جائیں گی۔
    4. افراد باہم معذوری کے لئے دیگر افراد کی طرح برابری کی بنیاد پر طبی ماہرین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    5. افراد باہم معذوری کے خلاف صحت اور بیمہء زندگی کروانے کے لحاظ سے دیگر افراد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق کی ممانعت ہوگی اور جہاں قومی قوانین کے مطابق بیمہء زندگی کی اجازت ہوگی وہاں مناسب طریقے سے یہ سہولت فراہم کی جائےگی۔
    6. ۔ معذوری کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق یا صحت یا طبی خدمات پہنچانے سے انکار کنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    شق نمبر ۲۶ بحالی :

    1. ہم عمر افراد کی مدد سے ریاستی جماعتیں ایسے موئثر اقدامات کریں گی کہ افراد باہم معذوری کو زیادہ سے زیادہ آزادی، مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع ملے۔ اس مقصد کے تحت ریاستی جماعتیں بحالی کے ایسے اقدامات کریں گی کہ جن کے ذریعے صحت روزگار، تعلیم اور سماجی خدمات حاصل ہو سکیں۔
      1. زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک افراد باہم معذوری کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔
      2. افراد باہم معذوری کی اپنی کمیونٹی دیہی علاقوں میں شرکت کی موئثر حمایت کی جائے گی۔
    2. ریاستی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افراد باہم معذوری کی بحالی کے لئے کام کرنے والے افراد کو تربیت دینے کے عمل کو فروغ دیں۔
    3. کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بحالی کے اقدامات میں سے ایک ہے لہٰذا ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کے لئے تیار کردہ آلات کی معلومات اور معاون آلات کی ٹیکنالوجی کی دستیابی کو یقینی بنائیں گی۔

    شق نمبر ۲۷ کام روزگار :

    1. ریاستی جماعتیں یہ بات تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں بشمول اپنی مرضی سے کام کے ذریعے پیسا کمانا، کام کے ماحول کا آزاد ہونا اور قابل رسائی ہونا۔ ریاستی جماعتیں افراد باہم معذوری کے کام کرنے کے حق کا تحفظ کریں گی، خصوصاً وہ افراد باہم معذوری کہ جنہیں کام کے دواران معذوری پیش آئی ہو۔ اس سلسلے میں قانون سازی کے ذریعے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔
      1. ہر قسم کی تفریق کی ممانعت ہوگی، افراد باہم معذوری کے ساتھ معذوری کی وجہ سے تفریق کرنا، نوکری اور روزگار کے مواقع کی فراہمی، ملازمت کے دوران ان کی ترقی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنا اور انہیں ترقی کی تمام سہولتیں برابری کی بنیاد پر فراہم کی جائیں گی۔
      2. کا م کی جگہ پر دیگر افراد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر افراد باہم معذوری کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ برابری کی بنیاد پر ملازمت کے مواقع، کام کے لئے مناسب مواقع، یکساں تنخواہ، محفوظ اور صحت مند کام کے حالات بشمول ہر اسگی سے بچاؤ افراد باہم معذوری کے حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔
      3. اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو برابری کے ساتھ مزدور یونین اور تجارتی یونین بنانے کے تمام حقوق حاصل ہوں گے۔
      4. افراد باہم معذوری کو اس قابل بنانا کہ ان کی پیشہ ورانہ پروگراموں، تکنیکی پروگراموں تک موئثر رسائی ہو۔
      5. لیبر مارکیٹ میں افراد باہم معذوری کے لئے برابری کی بنیاد پر ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ ملازمت ڈھونڈنے میں معاونت اور دوبارہ سے ملازمت کرنے میں معاونت کی فراہمی شامل ہے۔
      6. افراد باہم معذوری کو خود اختیاری ملازمت اختیار کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے مواقع کو فروغ دینا۔
      7. عوامی اداروں میں افراد باہم معذوری کی بھرتی کو یقینی بنانا
      8. مناسب پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے نجی اداروں میں افراد باہم معذوری کو ملازمت کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔ اس میں تمام مراعات اور اقدامات شامل ہیں۔
      9. افراد باہم معذوری کو ان کی ملازمت کی جگہ پر مناسب رہائش فراہم کی جائے۔
      10. افراد باہم معذوری کی آزاد لیبر مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
      11. ووکیشنل اور پیشہ ورانہ بحالی، ملازمت دوبارہ ملنا، ان سب باتوں کو افراد باہم معذوری کے لئے فروغ دینا۔
    2. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کو غلاموں کی طرز پر استعمال نہ کیا جاسکے اور انہیں تمام شہری حقوق برابری کی بنیاد پر حاصل ہوں اور انہیں جبری مشقت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    شق نمبر ۲۸ مناسب معیار زندگی اور سماجی تحفظ :

    1. ریاستی جماعتیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری اور ان کے خاندان کا حق ہے کہ انہیں مناسب معیار زندگی بشمول مناسب غذا، کپڑے اور گھر ملے اور لگا تار زندگی میں بہتری آئے اور ایسے مناسب اقدامات کئے جائیں کہ افراد باہم معذوری کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہ ہو۔
    2. ۲۔ افراد باہم معذوری کے سماجی تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور معذوری کی بنا پر ان کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہ ہو۔ اس کے لئے درجہ ذیل اقدامات کئے جائیں
      1. صاف پانی تک افراد باہم معذوری کی رسائی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور معذوری سے متعلقہ ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب اور کم قیمت آلات تک رسائی ممکن بنائی جائے۔
      2. افراد باہم معذوری بلخصوص خواتین باہم معذوری، لڑکیوں اور بزرگوں کو سماجی تحفظ کے پروگرام اور غربت کے خاتمے کے پروگرام تک خصوصی رسائی فراہم کی جائے۔
      3. افراد باہم معذوری اور ان کے خاندان کو مناسب تربیت ، مشاورت، مالی امداد سمیت ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
      4. سرکاری رہائشی پروگراموں میں افراد باہم معذوری کو شامل کیا جائے۔
      5. افراد باہم معذوری کو ریٹائرمنٹ کے بعد کی تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔

    شق نمبر ۲۹ سیاسی اور عوامی زندگی میں شرکت :

    ریاستی جماعتیں اس بات کی ضمانت دیں گی کہ افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر سیاسی حقوق دئے جائیں گے اور ان کے سیاسی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور پابند ہوں گی کہ؛

    1. اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افراد باہم معذوری، سیاسی اور عوامی زندگی میں براہ راست یا بلواسطہ طور پر برابری کی بنیاد پر حصہ لیں اور افراد باہم معذوری کو منتخب ہونے اور ووٹ دینے کا پورا حق حاصل ہو۔
      1. انتخابات اور ریفرنڈم میں خفیہ رائے شماری کے وقت بلاخوف و خطر افراد باہم معذوری ان میں بھر پور شرکت کرسکیں۔ بحثیت امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکیں، موئثر طور پر کام کر سکیں اور تمام عوامی تقریبات میں شرکت کا بھر پور موقع ملے اور مناسب معاون اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
      2. اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ افراد باہم معذوری آزادانہ طریقے سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈال سکیں اور اگر ضروری ہو تو ان کی درخواست پر ووٹ ڈالنے کے لئے ان کو معاون فراہم کیا جائے۔
    2. ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے کہ جس میں افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر بلا تفریق سرگرمی کے ساتھ حصہ دیا جائے اور عوامی امور میں شرکت کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، بشمول
      1. ملک میں موجود غیر سرکاری تنظیموں اور یونینوں میں ، سیاسی اور عوامی زندگی میں اور سیاسی تنظیم سازی اور سرگرمیوں میں شمولیت
      2. بین الاقومی، قومی، علاقائی اور مقامی سطحوں پر افراد باہم معذوری کی تنظیموں کی تنظیم سازی یا ان میں شمولیت۔

    شق نمبر ۳۰ ثقافتی زندگی، فرصت کے لمحات اور کھیلوں میں شرکت :

    1. ریاستی جماعتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر ثقافتی زندگی میں حصہ لینے کے لے تمام مواقع فراہم کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
      1. ثقافتی مواد کی قابل رسائی شکل میں موجودگی
      2. افراد باہم معذوری لے لئے قابل رسائی ٹیلی ویژن پروگراموں، فلموں، تھیٹر اور دیگر ثقافتی سرگرمیں میں شرکت
      3. عجائب گھروں، سینماؤں ، لائبریریوں اور سیاحتی مراکز تک افراد باہم معذوری کی رسائی کو یقینی بنانا، اور جہاں تک ممکن ہو سکے ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات تک رسائی فراہم کرنا۔
    2. ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ افراد باہم معذوری کی تخلیقی، فنی اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے تاکہ نہ صرف ان کو ذاتی فائدہ پہنچے بلکہ معاشرہ بھی ترقی کرے۔
    3. ریاستی جماعتیں بین الاقومی قوانین کی روشنی میں افراد باہم معذوری کے تخلیقی حقوق کا مکمل پاس کریں گی۔
    4. افراد باہم معذوری کو برابری کی بنیاد پر اپنا ثقافتی تشخص برقرار رکھنے بشمول اشاراتی زبان کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
    5. تفریحی سرگرمیوں اور کھیل کود کی سرگرمیوں میں افراد باہم معذوری کی شمولیت کو یقینی بنانے لے لئے ریاستی جماعتیں مناسب اقدامات کریں گی، جن میں
      1. کھیلوں کی سرگرمیوں میں افراد باہم معذوری کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی جی جائے گی اور کھیلوں کو فروغ دیا جائے گا۔
      2. افراد باہم معذوری کے لئے ترتیب شدہ کھیلوں کے انعقاد اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کے لئے مناسب ہدایات، تربیت اور وسائل مہیا کئے جائیں گے۔
      3. کھیل کے میدانوں اور سیاحتی مقامات تک افراد باہم معذوری کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
      4. اطفال باہم معذوری کی برابری کی بنیاد پر کھیل کود اور تفریح سرگرمیوں میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اسکولوں میں منعقدہ کھیل کود کی سرگرمیوں میں دیگر بچوں اور اطفال باہم معذوری کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔
      5. کھیل کود، تفریح اور سیاحتی خدمات مہیا کرنے والے اداروں تک افراد باہم معذوری کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    شق نمبر ۳۱ شماریات اور اعداد و شمار جمع کرنا :

    1. ریاستی جماعتیں عہد کرتی ہیں کہ وہ افراد باہم معذوری کے بارے میں مناسب اعداد و شمار جمع کریں گی تاکہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں موجودہ کنونشن کے مطابق اپنی پالیسیاں ترتیب دے سکیں۔ اعداد و شمار جمع کرنے اور معلومات کے حصول کے لئے
      1. رازداری اور افراد باہم معذوری کی نجی زندگی میں مداخلت سے گریز کےلئے مناسب قانون سازی کی جائے گی۔
      2. اعداد و شمار کے حصول میں بین الاقومی سطح پر تسلیم شدہ اصول اپنائے جائیں گے تاکہ انسانی حقوق، بنیادی آزادی اور اخلاقی اصولوں کا خاص خیال رکھا جاسکے۔
    2. اس شق کے تحت جمع کئے جانے والے اعداد وشمار کو موجودہ کنونشن کے تحت ریاستی جماعتوں کی پالیسیوں کا تجزیہ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ افراد باہم معذوری کو اپنے حقوق استعمال کرنے میں درپیش مشکلات کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔
    3. ان اعداد وشمار کے پھیلاؤ میں ریاستی جماعتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ یہ اعداد و شمار افراد باہم معذوری اور دیگر افراد کو بھی دستیاب ہوں۔

    شق نمبر ۳۲ بین الاقومی تعاون :

    1. ریاستی جماعتیں اس بات کی اہمیت کو سمجھتی ہیں کہ موجودہ کنونشن کے مقاصد کے حصول کے لئے بین الاقومی تعاون اور کوششوں کے فروغ کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومتوں کے درمیان اور اس حوالے سے کام کرنے والی بین الاقومی، علاقائی جماعتوں، شہری تنظیموں اور افراد باہم معذوری کی تنظیموں کے ساتھ مل کر موئثر اورمناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ یہ اقدامات مندرجہ ذیل ہیں؛
      1. عالمی تعاون بشمول بین الاقومی ترقی کے پروگراموں میں افراد باہم معذوری کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا
      2. سہل کاری اور استعداد کاری فراہم کرنے کے لئے معلومات، تجربات، تربیتی پروگراموں اور کامیاب مشقوں کے تبادلے کئے جائیں گے۔
      3. تحقیقی، سائنسی اور تیکنیکی معلومات کا تجزیہ کرنے کے لئے آپس میں تعاون بڑھایا جائے گا۔
      4. ٹیکنالوجی کے تبادلے اور قابل رسائی معاون تیکنیک کے تبادلے کے ذریعے مناسب تکنیکی اور معاشی معاونت فراہم کی جائے گی۔
    2. موجودہ کنونشن کی روشنی میں ان شقوق پر ریاستی جماعتیں بغیر کسی تعصب کے عملدآمد کو یقینی بنائیں گی۔

    شق نمبر ۳۳ قومی سطح پر عمل درآمد اور نگرانی :

    1. ریاستی جماعتیں اپنے نظام کے مطابق موجودہ کنونشن پر عملدرآمد سے متعلقہ امور کے لئے حکومتی سطح پر ایک یا ایک سے زائد ترجمان مقرر کریں گی اور اس سلسلے میں حکومت کے مختلف شعبہ جات اور درجات میں اقدامات کرنے کے لئے مناسب توجہ دی جائے گی۔
    2. ۲۔ ریاستی جماعتیں اپنے قانونی اورانتظامی نظام کے اندر رہتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں گی جس میں موجودہ کنونشن میں طے کئے گئے ضابطوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایسا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے ریاستی جماعتیں قومی اداروں کے معیار اور کاموں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انسانی حقوق کو فروغ دیں گی۔
    3. نگرانی کے عمل میں افراد باہم معذوری کی نمائندہ شہری تنظیموں کی موئثر شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

    شق نمبر ۳۴ افراد باہم معذوری کے حقوق پر کمیٹیوں کا قیام :

    1. افراد باہم معذوری کے حقوق کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے گی (جس کو اس دستاویز میں "کمیٹی" کہا جائے گا)، مذکورہ اقدامات کرے گی۔
    2. موجودہ کنونشن پر عملدرآمد کے ابتدائی وقت میں کمیٹی میں بارہ ماہرین شامل ہوں گے۔ کنونشن کی اضافی ۶۰ توثیق یا قبولیت کے بعد ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ اٹھارہ ہوگی۔
    3. کمیٹی کے ارکان اپنی ذاتی حثیت میں خدمات انجام دیں گے اور موجودہ کنونشن یں دیئے گئے معیار کے مطابق ان کے پا س موجودہ کنونشن میں احاطہ کئے جانے والے شعبوں میں مناسب تجربہ اور استعداد ہوگی۔ اپنے نمائندوں کو نامزد کرتے ہوئے ریاستی جماعتیں اس کنونشن کی شق نمبر ۳، ۴ کے مطابق عمل کریں گی۔
    4. کمیٹی کے ممبران کا انتخاب ریاستی جماعتیں خود کریں گی اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ارکان کے انتخابات میں تمام ضروری ظابطوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کا صنفی امتیاز نہیں رکھا گیا ہے۔
    5. کمیٹی کے ارکان کا انتخاب ریاستی جماعتوں کی جانب سے دئیے گئے افراد کے فہرست کے مطابق خفیہ رائے شماری سے کیا جائے گا اور بنائے گئے ضوابط کے مطابق دو تہائی افراد کی مدد سے کورم پورا ہوگا۔ زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے افراد کو منتخب تصور کیا جائے گا۔
    6. پہلا انتخاب موجودہ کنونشن کے اطلاق کے چھ ماہ کے اندر ہوگا اور ہر الیکشن سے چار ماہ پہلے اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ریاستی جماعتوں کے نمائندوں کو خط کے ذریعے خطاب کرے گا اور انہیں دو ماہ کے اندر کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی دعوت دے گا۔ سیکرٹری جنرل حروف تہجی کے اعتبار سے نامزد امیدوارں کی فہرست ترتیب دے گا اور انہیں موجودہ کنونشن کی موجودہ ریاستی جماعتوں کے سامنے پیش کرے گا۔
    7. کمیٹی کے ارکان کو چار سال کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ انہیں صرف ایک مرتبہ دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہوگی، تاہم پہلے انتخاب میں منتخب شدہ چھ ارکان کی مدت پہلے انتخاب کے دو سال بعد ختم ہو جائے گی۔ ان چھ افراد کے نام کا انتخاب میٹنگ کا چئیر پرسن اس شق کے پیرا گراف ۵ کے مطابق کرے گا۔
    8. کمیٹی کے اضافی چھ ارکان کا انتخاب اس سے متعلقہ شق کے مطابق باقاعدہ انتخابات کے موقع پر ہوگا۔
    9. اگر کمیٹی کا کوئی رکن فوت ہو جائے یا استعفیٰ دیدے یا کسی بھی دوسری وجوہ کی بنا پر وہ کام جاری رکھنے سے معذرت کر لے تو ریاستی جماعت کہ جس نے اسے نامزد کیا تھا اس کا یہ فرض ہوگا کہ ایک اور ماہر کا انتخاب کرے جو قابلیت اور اہلیت میں اس شق میں بیان کی گئی اہلیت کے مطابق ہو اورجو باقی مدت کے لئے کام کرے گا۔
    10. کمیٹی اپنے ضوابط خود طے کرے گی۔
    11. اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل کمیٹی کی موئثر کار کردگی کے لئے ضروری اسٹاف اور وسائل مہیا کرے گا اور اس کا پہلا اجلاس طلب کرے گا۔
    12. جنرل اسمبلی کی منظوری سے موجودہ کنونشن کے مطابق، کمیٹی کے ارکان کی تنخواہیں اسمبلی کی جانب سے مقررہ شرائط پر، اقوام متحدہ سے ادا کی جائیں گی۔
    13. کمیٹی کے ماہرین کو ان کی تعیناتی تک تمام سہولتیں اور مراعات اس کنونشن کی شق کے مطابق حاصل رہیں گی۔

    شق نمبر ۳۵ ریاستی جماعتوں کی رپورٹیں :

    1. ہر ریاستی جماعت اپنی رپورٹ کمیٹی کے ارکان کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے توسط سے پیش کرے گی۔ کنونشن کے اطلاق کے دوسال کے اندر ریاستی جماعتیں اپنی ایک جامع رپورٹ پیش کریں گی اور اس سلسلے میں پیش رفت سے مسلسل آگہی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
    2. اس کے بعد کم از کم ہر چار سال کے بعد ریاستی جماعتیں کمیٹی کو مطلوبہ اطلاعات فراہم کرتی رہیں گی یا پھر جب کبھی کمیٹی کی جانب سے درخواست کی جائے گی۔
    3. کمیٹی کی جانب سے رپورٹ کے اجزاء کے لئے رہنما اصول مرتب کئے جائیں گے۔
    4. اگر ریاستی جماعت کی جانب سے جامع ابتدائی رپورٹ پیش کی جاچکی ہے تو کمیٹی کو پہلے سے بیان کردہ معلومات دوبارہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کمیٹی کے لئے رپورٹ بن رہی ہو تو ریاستی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ ایک صاف شفاف عمل سے گزریں جیسا کہ اس کنونشن کی شق نمبر ۳، ۴ میں بیان کیا گیا ہے۔
    5. رپورٹ میں موجودہ کنونشن کی روشنی میں طے کئے گئے اصول و ضوابط کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کو بیان کیا جائے گا۔۔

    شق نمبر ۳۶ رپورٹوں پر غور :

    1. کمیٹی میں ہر رپورٹ پر غور کیا جائے گا اور اس میں پیش کی جانے والی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے ریاستی جماعت کو بھیجا جائے گا۔ ریاستی جماعت کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ کسی بھی معلومات کے حوالے سے مزید اطلاعات طلب کر سکے گی جو موجودہ کنونشن پر عمل درآمد سے متعلق ہوگا۔
    2. اگر کوئی ریاستی جماعت رپورٹ جمع نہیں کرواتی تو کمیٹی اس ریاستی جماعت کو اپنے ملک میں کنونشن کے اطلاق کے حوالے سے نوٹس دے گی۔ نوٹس دینے کے تین ماہ کے اندر کمیٹی مصدقہ اطلاعات کی روشنی میں اس ریاستی جماعت سے اس کنونشن میں طے کئے گئے ضوابط سے انحراف کی صورت میں جواب طلب کر سکتی ہے اور اگر مطلوبہ معلومات تین ماہ کے اندر فراہم نہ کی گئی تو کمیٹی ریاستی جماعت کے ساتھ معائنہ کرے گی۔ اگر ریاستی جماعت متعلقہ رپورٹ جمع کرادیتی ہےتو اس شق کا پیراگرام لاگو ہو گا۔
    3. اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل تمام ریاستی جماعتوں کے لئے رپورٹس کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔
    4. ریاستی جماعتیں اپنے عوام کیلئے بھی ان رپورٹس کی تشہیر کریں گی اور یہ رپورٹس عوامی رسائی میں ہوں گی۔ ان رپورٹس کی روشنی میں عوام سے تجاویز طلب کر سکیں گے۔
    5. کمیٹی اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کو اس رپورٹ کی بنیاد پر پروگرام اور فنڈ مہیا کرے گی۔ تمام اداروں اور پروگراموں میں کمیٹی کی سفارشات کو مد نظر رکھا جائے گا۔

    شق نمبر ۳۷ ریاستی جماعتوں اور کمیٹی کے درمیان تعاون :

    1. ہر ریاستی جماعت کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے گی اور اس کے اراکین کو اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاونت فراہم کرے گی۔
    2. ریاستی جماعتوں کے ساتھ اپنےتعلقات میں کمیٹی بین الاقومی تعاون کے ذریعے موجودہ کنونشن پر عملدرآمد کیلئے قومی استعداد کاری کے فروغ کے طریقے کار پر خاص توجہ دے گی۔

    شق نمبر ۳۸ کمیٹی کے دوسرے اداروں کے ساتھ تعلقات :

    موجودہ کنونشن پر موئثر عملدرآمد کے لئے اور موجودہ کنونشن کے تحت بین الاقومی تعاون کی حوصلہ افزائی کے لئے درج ذیل اقدامات کئے جائیں گے۔

    1. خصوصی ادارے اور اقوام متحدہ کے اداروں کو موجودہ کنونشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے وقت شامل کیا جائے گا اور کمیٹی اپنی ذمہ داریوں کے تحت علاقوں میں اس کنونشن عملداری کے لئے خاص اداراے یا کسی اور ماہر ادارے کی خدمات حاصل کر سکتی ہے اور کمیٹی مخصوص اداروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کو متعلقہ علاقوں میں کنونشن پر عملدرآمد کے لئے رپورٹ پیش کرنے کا کہہ سکتی ہے۔
    2. کمیٹی جب اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہو رہی ہوگی تو اسی طرح کا کام کرنے والے دیگر بین الاقومی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ یکسانیت اور ایک جیسے کام کی تکرار نہ ہو۔

    شق نمبر ۳۹ کمیٹی کی رپورٹ :

    کمیٹی ہر دو سال کے بعد جنرل اسمبلی اور اقتصادی اور سماجی کونسل کو اپنی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرے گی اور ریاستی جماعتوں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور رپورٹس کے جائزے کی بنیاد پر تجاویز اور عمومی سفارشات پیش کرے گی۔ ایسی تجاویز اور سفارشات کو ریاستی جماعتوں کے تبصرے کے ساتھ کمیٹی کی رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

    شق نمبر ۴۰ ریاستی جماعتوں کی کانفرنس :

    1. ریاستی جماعتیں موجودہ کنونشن پر عملدرآمد سے متعلق کسی بھی امور پر غور کے لئے ریاستی جماعتوں کی کانفرنس میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کریں گے۔
    2. موجودہ کنونشن کے اطلاق کے چھ ماہ کے اندر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے ریاستی جماعتوں کی کانفرنس بلائی جائے گی۔ جبکہ ذیلی اجلاس اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ہر دو سال کے بعد بلائے گا۔ یا ریاستی جماعتوں کی کانفرنس کے فیصلے کے مطابق اجلاس ہوگا۔

    شق نمبر ۴۱ امانت دار:

    اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل اس کنونشن کا امانت دار ہو گا۔

    شق نمبر ۴۲ دستخط:

    موجودہ کنونشن تمام ریاستوں اور تمام علاقائی متحدہ تنظیموں کے دستخط کے لئے ۳۰ مارچ ۲۰۰۷ سے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر واقع نیویارک میں دستیاب ہوگا۔

    شق نمبر ۴۳ رضامندی کی پابند:

    موجودہ کنونشن کی تصدیق، دستخط کردہ ریاستوں یا دستخط کردہ علاقائی متحدہ تنظیموں کی باضابطہ آمادگی سے ہوگی۔ کوئی بھی ریاست یا علاقائی متحدہ تنظیم کنونشن میں شامل ہو سکتی ہے۔

    شق نمبر ۴۴ علاقائی متحدہ تنظیمیں :

    1. علاقائی متحدہ تنظیم سے مراد ایسی تنظیم ہے جو کسی علاقے کی مقتدرہ ریاست ہے جس کو رکن ریاستوں کی جانب سے حکومتی معاملات کا اختیار دیا گیا ہے۔ ایسی تنظیم اپنے دائرہ اختیار اور حکومتی معاملات کے تحت باضابطہ طور پر اپنی دستاویزات میں اس کنونشن کو توثیق یا رضامندی کا اظہار کرے گی۔
    2. موجودہ کنونشن میں ریاستی جماعتوں سے مراد ایسی تنظیمیں ہیں جو اپنے معاملات کا اختیار رکھتی ہیں۔
    3. شق نمبر ۴۵ کے پیرا گراف ۱۱ اور شق نمبر ۴۷ کے پیراگراف ۲ اور ۳ کے تحت کوئی بھی دستاویز جو کسی علاقائی متحدہ تنظیم کی طرف سے جمع کروائی جائے گی شمار نہیں کی جائےگی۔
    4. علاقائی متحدہ تنظیمیں اپنے اختیار کے اعتبار سے، ریاستی جماعتوں کی کانفرنس میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتی ہیں۔ ان کے ووٹ کا تناسب ان کی رکن ریاستوں کے برابر ہوگا جو کہ اس کنونشن کی فریق ہوں گی۔ کوئی بھی تنظیم اپنا حق رائےدہی کا استعمال نہیں کر سکے گی اگر اس کی رکن ریاست اپنا حق استعمال کر چکی ہو اور اسی طرح اس کا اُلٹ ہو گا۔

    شق نمبر ۴۵ اطلاق عملدرآمد :

    1. موجودہ کنونشن پر علمدرآمد کا اطلاق توثیق یا قبول کی گئی بیسویں دستاویز کی وصولی کے تیرھویں دن ہوگا۔
    2. ہر ریاست اور علاقائی متحدہ تنظیمیں جو اس کنونشن کو منظور، با ضابطہ تو ثیق، یا تسلیم کرتی ہیں۔ قبولیت کی بیسیویں دستاویز کی وصولی کے تیرھویں دن سے اس کنونشن پر عملدرآمد کی پابند ہونگی جو کہ از خود لاگو ہوگا۔

    شق نمبر ۴۶ تحفظات :

    1. موجودہ کنونشن کے اغراض و مقاصد سے متصادم تحفظات قابل قبول نہیں ہونگے
    2. کسی بھی وقت تحفظات واپس لئے جا سکتے ہیں۔

    شق نمبر ۴۷ ترامیم :

    1. کوئی بھی ریاستی جماعت موجودہ کنونشن میں ترمیم کی تجویز پیش کرسکتی ہے۔ جو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھیج دی جائے گی۔ سیکرٹری مجوزہ ترامیم پر تمام ریاستی جماعتوں سے مشاورت کرے گا اور اس سلسلے میں ان کی ایک کانفرنس کی تجویز دے گا جس میں ان پر غور کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں چار ماہ کے اندر اندر اگر ایک تہائی ریاستی جماعتیں اس کی حمایت کر دیں تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس بلائے گا۔ کوئی بھی ترمیم ریاستی جماعتوں کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کے عمل میں لائی جائے گی جسے حتمی منظوری کے لئے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جنرل اسمبلی کو بھیج دیا جائے گا اور جنرل اسمبلی سے منظوری کے بعد تمام ریاستی جماعتوں کو قبول کرنے کے لئے بھیجا جائے گا۔
    2. اس شق کے پیرا گراف کے مطابق اختیار و قبول کی گئی کسی بھی ترمیم کا اطلاق تیرھویں دن (جس دن سے کہ ریاستی جماعتوں کو دو تہائی اکثریت اس کو قبول کرے گی) سے ہوگا۔ لہذا کسی بھی ترمیم کا اطلاق صرف قبول کردہ ریاستی جماعتوں پر ہوگا۔
    3. ریاستی جماعتوں کو کانفرنس میں اتفاق رائے سے اختیار و قبول کی گئی کسی ترمیم کی خصوصی طور پر ۳۴، ۳۸، ۳۹، ۴۰ کے مطابق تمام ریاستی جماعتیں تیرھویں دن، (جس دن سے ان کی قبولیت دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی) سے عملدرآمد کی پابند ہوں گی۔

    شق نمبر ۴۸ رد معاہدہ / علیحدگی:

    کوئی بھی ریاستی جماعت موجودہ معاہدے کے کلی یا جزوی خاتمے کی باقدہ اطلاع تحریری طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دے گی۔ معاہدے کےخاتمے کا اطلاق سیکرٹری جنرل کو تحریری درخواست کی وصولی کے ایک سال بعد ہوگا۔

    شق نمبر ۴۹ دستیاب طریقہ کار:

    موجودہ کنونشن کا مسودہ رسائی کی تمام اشکال میں دستیاب ہوگا۔

    شق نمبر ۵۰ مستند مسودہ:

    موجودہ کنونشن کا عربی ، چینی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی زبان میں مسودّہ مستند ہوگا۔

    گواہ ہیں کہ اپنی ریاستوں کی جانب سے اپنی حکومتوں کے با اختیار نمائندگان نے موجودہ کنونشن پر دستخط کر دیئے ہیں۔
    header line
    امید جدوجہد کا دروازہ ہے، جو بلا آخر کامیابی پر متنج ہوتا ہے۔(اکرم)۔
    header line

    Valid XHTML 1.0 Transitional Valid CSS!

    Flag Counter